1-Oct-2022 5-Rabi ul Awwal-1444

Islam Main Hakoomat Ki Zimmedariyan

 Speaker: H.I Fida Hussain Abidi

Record date: 20 Mar 2022 – اسلام میں حکومت کی ذمہ داریاں

AL-Mehdi Educational Society proudly presents new Executive Refresher Course for the year 2022 under the supervision of specialist Ulema and Scholars who will deliver though provoking lectures Every Weekend. These video lectures are presented by aLmehdi educational society, Karachi for our youth.

 

تاریخ:  20 مارچ 2022

مقرر:  مولانا فدا حسین

خلاصہ درس:  حکومت اسلامی کی کیا ذمہ داریاں ہیں

———————————————

موجودہ معاشره منتظر امام کا معاشرہ ہے ۔

سوال: ہم شیعہ مومن ہم منتظر امام اپنے آپ سے سوال کریں کہ امام زمانہ ابھی آجائیں تو کیا ہم تیار ہیں؟؟

اسکا جواب یہی ہو گا کہ ہم تیار نہیں ہیں ہم آماده نہیں ہیں۔

جبکہ کراچی میں ہزاروں کی تعداد میں سینہ زنی کرتے ہوۓ ماتم کرتے ہوئے شب وروز مجلس کر تے ہوئے بھی ہم تیار نہیں ہیں؟

تیار ہوتے تو حتماً امام تشریف لاتے۔۔۔۔

اسی کمی کو پورا کرنے کیلئے آج کے درس کا عنوان حکومت اسلامی کی کیا ذمہ داریاں ہیں منتخب کیا گیا ہے

معاشرے کو جہالت سے نکالنا ایک حکومت کی ذمہ داری ہے دوسرا یہ کہ انسان کو  رشد و معنوی کی طرف لےکر جائیں ۔معنویت کی طرف لے کر جائیں  نیک کاموں کی طرف لے کر جائیں۔

قرآن مجید نے بیان کیا انا للہ وانا الیہ راجعون اسے ہم مصیبت میں پڑھتے ہیں یہ قاعدہ کلی ہے کہ خداوندعالم  کامل مطلق ہے

یعنی ہم کامل مطلق کی طرف سے آرہے  ہیں  اور کامل مطلق کی طرف واپس جانا ہے

بس یہ دنیا دنیائے کامل ہے انسان کو تقرب الہی حاصل کرنے کے لیے خدا نے اس دنیا میں بھیجا ہے۔

خداوندعالم نے ہماری ہدایت کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو مبعوث فرمایا وہ ہمارے لئے نمونہ عمل بن جائیں انہیں دیکھ کر ہم بھی کمال حاصل کریں

جب ہم کہتے ہیں کہ ذمہ داری کیا ہوتی ہے ایک حکومت کی  انسان کو کمال کی طرف لے جانے کی ذمہ داری ہے اور اسی کے لئے انسان کی کی راہنما کرنا ہے۔

حکومت اور حاکم اسلامی خصوصا جو ہمارے عقیدے کے مطابق اس حاکم کو بھی انسان کامل ہونا چاہیے جسکو ہم معصوم کہتے ہیں امام معصوم ہونا چاہیے

امام معصوم وه حاکم اسلامی جو نمونہ  کامل ہیں اس پورے معاشرے کو ساتھ لے کر جاتا ہے پورے معاشرے کو چلاتا ہے

حاکم صالح کی خصوصیات کو قرآن میں سوره انبياء کی آیت نمبر ۱۰۵ میں بیان کیا ہے تفصیل کے لیے قرآن سے مطالعہ اور استفاده کریں

جب ہم بحث کرتے ہیں حکومت سے مراد حکومت ایسی ہے حاکم سے مراد حاکم ایساہے ہم دیکھتے ہیں دوسرے ممالک میں حاکم کی کیا حالت ہےان کی حکومت کی کیا حالت ہے وه ہماری مرادہے۔

بلکہ ہم شعیان اہلیبت منتظر امام ہیں

ہم زمانہ غیبت میں ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ حاکم صالح امام مہدی آئینگے عدل و انصاف قائم  کرنے کے لیے حکومت ایسی قائم کریں گے

تو ہماری توجہ حکومت الہی  کی جانب ہیں ناکہ دنیا کی حکومت اور حکمران۔

لہٰذا تمام انبیاء کا ہدف تربیت انسان ہے۔

تربیت انسان کرنا انسان کو بنانا  انسان کو صالح بنانا اور حکومت ایسی کے لئے زمینہ فراہم کرنا ہے پلیٹ فارم

جب تک معاشرہ صالح نہ ہو جب تک معاشرہ اچھا نہ ہو اس وقت تک حکومت صالح کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے اگر معاشرہ صحیح نہ ہو اور پھر ہم حکومت عدل کی طرف جانا چاہیں ہم نہیں جا سکتے

دلیل !

اگر معاشرہ صالح نہ ہو تو امیرالمومنین جیسا انسان کامل انسان عادل بھی حکومت نہیں کر سکتا کیوں ؟

کیونکہ معاشرہ تیار نہیں تھا۔

جب تک ہم منتظر ہیں کہ ایک حکومت صالح آجائےحاکم ایسا آجائے کیوں نہیں آ رہا ہے وجہ؟

لہٰذا انبياء آئے تعلیم و تربیت کے لیے لوگوں کو تربیت کریں تاکہ ایسی نظام اس معاشرے پر لاگو کر لے

امیرالمومنین فرماتے ہیں ہیں امام کا فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو اهل ولايت کی تعلیم دے کسی چیز کی تعلیم دی حدود الہی سمجھ آئے اور ایمان کے طریقے سمجھائے یہ حاکم الہی کی ذمہ داری ہے جو ایک فہرست میں بیان کر رہے ہیں

 

پہلی ذمہ داری حکومت اور حاکم خواہ وہ حاکم انسان ہو خواہ وہ جمہوری حکومت کے حاکم ہوں ان کی بھی ذمہ داری یہ ہے کہ معاشرے کو جہالت سے نکالیں۔

دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ انسان کو   رشد اور معنویت کی طرف لے کر جائیں۔

تعلیم و تربیت کے سا تھ ساتھ ان کی رہنمائی کریں خدا کی طرف اور تقرب ایسی کی طرف گامزن ہو جائیں۔

تیسری ذمہ داری عدالت

اسکی خاطر ذخیره الہی امام زمانہ تقریبا 1188  سال ہم منتظریں وہ عدالت ہے معاشرے میں عدالت کا اجزاء ہے

، ہر صاحب حق کے حق ادا کر لے کو کیا کہتے ہیں عدالت

عدالت بہت وسیع بھی ہے اور دقیق بھی ہے ا جزاء عدالت یہ حکومت کی ایک اہم ذمہ داری ہے  کسی بھی حکومت کی بقاء عدالت پر ہے۔

اور اسلامی معاشرے کے تیں اہم بنیاد اہم رکن • حاکم  – صالح – عادل ہوں۔

اس معاشرے میں عدالت قائم ہوں یہ معاشرے کے تین اہم رکن ہیں     انسان سب کے سب اچھے ہوں نیک ہوں حاكم صالح ہو حاکم عدالت کا اجزاء کریں معاشرے میں۔

پھر وہ معاشرہ اس سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ امام زمانہ کے ظہور کی طرف جارہا ہے جب ہم اچھائی کی طرف نہ جائیں عدالت ہمارے معاشرے میں نہ ہو حاکم عادل اور عادل صالح نہ ہو تو سمجھیں کہ یہ معاشرہ معنوى معاشرہ نہیں ہے لہذا اسکی طرف توجہ کی ضرورت   ہے

شیخ صدوق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

امام زمانہ کے ذریعہ سےخداوندعالم زمین سے ہر قسم کے ظلم و جور کو ختم کرے گا اور ہر قسم کے ظلم سے اس زمین کو پاک فرمائے گا جب امام تشریف لائینگے زمین عدل و انصاف  کرینگے اس روح زمین پر اس کے بعد کوئی بھی شخص کسی شخص پر ظلم نہیں کرے گا وہ معاشره عجیب معاشرہ ہے وہ معاشرہ کیا ہے؟

مہدوی معاشرہ ہے

چوتھی ذمہ داری

بہت اہم مسئلہ ہمارے معاشرے میں جو مشکلات ہے وہ کیا ہے

ایک دوسرے کے ہمدرد نہ ہو نا ایک دوسرے کے غم و خوشی میں شریک نہ ہونا کسی کو کسی سے کوئی واسطہ نہیں کوئی بھوک سے مر جائے میں خود اچھا کھاؤ اچھا پیو اچھا لباس پہنو اپنے بچوں کو دوں لیکن ہمسائے میں میں کوئی مر رہا ہوں ہمسائے میں کوئی یتیم ہو کوئی بيوه ہو کوئی غریب ہوں ان کو کوئی پرواہ نہ ہو یہ معاشرہ عدالت خواہ معاشرہ نہیں ہے

حکومت اسلامی کی ذمہ داری یہ ہے کہ اجتماعی امور میں نظر رکھے

شہید مطاہری عليه الرحمہ فرماتے ہیں

س) زندہ معاشرہ کونسا معاشرہ ہے؟

جس کے رہنے والے انسان زندہ ہو اجتماعی لحاظ سے ایک دوسرے کے کے ساتھ اچھائی کرے ایک دوسرے کے ساتھ نیکی کرے ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کا اظہار ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہو جائیں تو وہ معاشرہ زندہ معاشرہ ہے ورنہ مردہ معاشرہ ہے

روایت میں ہے کہ

اپنے آپ کو دوسروں کی جگہ رکھے جو اپنے لیے پسند کریں دوسروں کے لیے پسند کریں جو اپنے لیے پسند نہ کریں وہ دوسروں کے لئے بھی پسند نہ کرے تو وہ معاشرہ زندہ معاشرہ ہے

حکومت مہدوی میں ایسا ہی ہے ایسی ہے ہے جو معاشرہ تشکیل دینگے کے امام زمانہ علیہ السلام اس معاشرے کی خصوصیات میں ایک ایثار اور قربانی ہی تعاون ہے پانچویں ذمہ داری یہ ہے کہ وہ امنیت پیس ایس کا برقرار کرنا ہے جس معاشرے میں امن نہ ہو انسان آزاد عبادت نہ کر سکیں انسان آزاد بازار میں نہ جا سکے اس کا مطلب ہے کہ حکومت کی کمزوری ہے کہ ذمہ داری اجتماعی ذمہ داری ہے حکومت میں ادویات کی خصوصیات یہی ہے ہے اس قدر نیت برقرار ہو گی گی سے مغرب تک ایک عورت جوان لڑکی تمام زیر و زیور اور اس کے ساتھ وہ وہ انکے تو اس کے عام اٹھتا کر دیکھنے والا نہ ہوگا وہ معاشرہ ہر لحاظ سے اونیت سے بھرپور ہوگا چھٹی ذمہ داری  اعتقادی   لحاظ سےتین چیزیں ایسی جس کی طرف انسان محتاج ہے پوری ہونی چاہیے

1) امنيت 2) عدالت 3)فراوانی رزق یہ تین چیزیں حکومت کی اولین ذمہ داریوں میں ہیں

امينت قائم کر لے معاشرے میں رہنے والے اپنے ماتحت لوگوں کے کھانے پینے کا بندوبست کریں کوئی بھوکا نہ رہے یہ اسلامی حکومت اور اسلامی ذمہ داریوں میں سے ہے

 

 

 

:   خلاصہ     

ایک دوسرے کے حقوق میں لوگ  حاکم کم کے حق کو ادا کرے تو حاکم پر واجب ہے کہ جو اس پر ذمہ داری ہے اس کو ادا کریں

امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ھیں

اگر رعایت اور  رعيت حاکم ایک دوسرے کے حقوق کو ادا کرے تو پھر کیا ہوگا نتیجہ

حق بلند ہوگا اور ان کے درمیان دین قائم ہوگا عدل قائم ہوگا وہ معاشرہ عادل بن جائے گا  انشاءاللہ

 

 

For more details visit:
📡 www.almehdies.com
🖥 www.facebook.com/groups/almehdies
🎥 www.youtube.com/almehdies
🎥 www.shiatv.net/user/Al_Mahdi_Edu